ابنا: عراق میں امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کے لیے ان گروہوں کو جدید ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ مائیک مولن نے کہا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو جاری رکھنے کے لیے کسی بھی معاہدے سے پہلے ایران کو کنٹرول کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئي شک نہیں ہے کہ ایرانی عراق خاص طور پر اس کے جنوبی علاقوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا چاہتے ہیں اور عراقی حکومت واشنگٹن کی اس تشویش سے آگاہ ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی رابرٹ گيٹس نے امریکی وزارت جنگ میں اپنے عہدے کی مدت کے آخری دن ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران بعض شیعہ گروہوں کو جدید ہتھیار فراہم کر کے عراق میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کی کوشش کی ہے۔ امریکی حکام کے حالیہ دعوے ایسے حالات میں کیے جا رہے ہیں کہ جب واشنگٹن نے اب تک اپنے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے کوئي بھی ٹھوس اور قابل قبول ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ درحقیقت امریکہ عراق پر اپنے قبضے اور موجودگي کو جاری رکھنے کے لیے ایک ہی وقت میں کئي بہانوں کو استعمال کر رہا ہے۔ عراق کی سکیورٹی میں مدد ، اس ملک کے فوجیوں کو تربیت اور اسی طرح انتہا پسند گروہوں کا مقابلہ، ایسی باتیں ہیں کہ جنہیں بہانہ بنا کر امریکی حکام عراق میں اپنی فوجی موجودگی کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ نے باضابطہ طور پر عراق میں اپنی کارروائياں ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن اس کے باوجود اب بھی وہاں تقریبا پچاس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ بغداد - واشنگٹن سکیورٹی معاہدے کے مطابق دو ہزار گيارہ کے آخر تک امریکی فوجیوں کو عراق سے نکل جانا ہے۔ اسی بنا پر وائٹ ہاؤس عراق کی سکیورٹی صورت حال کو خراب ظاہر کر کے اور اس بدامنی کا الزام دوسرے ملکوں پر لگا کر عراقی حکام کو امریکی فوجیوں کی موجودگی جاری رکھنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی حکام عراقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے صلاح و مشورے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل مائیک مولن نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور بغداد عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی مدت میں توسیع کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ بغداد میں امریکی سفیر جیمز جیفری نے بھی عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے عراقی حکام کی بار بار کی درخواستوں کے باوجود کہا ہے کہ امریکہ اب بھی دو ہزار گيارہ کے بعد عراق میں اپنے فوجیوں کی موجودگي جاری رکھنے کے لیے مختلف راستوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ عراقی پارلیمنٹ کے نمائندوں نے اپنے ملک کی جکومت کو امریکی فوجیوں کی موجودگی کی مدت میں توسیع پر رضامندی کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کہ جس نے عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے بہانے اس پر حملہ کیا تھا ، اب وہاں مستقل فوجی اڈے قائم کرنا اور طویل عرصے تک رہنا چاہتا ہے۔ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کولن پاول کے دفتر کے سربراہ لارنس ویلکرسن نے اس بارے میں کہا ہے کہ عراق اور افغانستان میں امریکی پالیسی کچھ اس طرح ہے کہ وہ ان ملکوں کو آئندہ پچاس سال یا حتی اس سے بھی زیادہ عرصے کے لیے اپنے فوجیوں کے لیے مستقل اڈے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عراق پر امریکی قبضے کے نتیجے میں اب تک دس لاکھ سے زائد عراقی مارے جا چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169